جی میں آتا ہے کہ تعویز بنا لیں تم کو
باندھ لیں ہاتھ پہ سینے پہ سجا لیں تم کو
جی میں آتا ہے کہ تعویز بنا لیں تم کو
پھر تمھں روز سنواریں تمھں بڑھتا دیکھں
کیوں نہ آنگن میں چنبیلی سا لگا لیں تمکو
کیا عجب خواہیشیں اَٹھتی ہیں ہمارے دل میں
کر کے مناَ سا ہواؤں میں اچھالیں تم کو
کبھی خوابوں کی طرح آنکھ کے پردے میں رہو
کبھی خواہش کی طرح دل میں بلا لیں تمکو
اس قدر ٹوٹ کے تم پہ ہمیں پیار آتا ہے
اپنی بانہوں میں بھریں مار ہی ڈالیں تم کو
Comments
Post a Comment
شکریہ