ایون فیلڈ ریفرنس کے فیصلے کا اردو ترجمہ {پاکستان تحریک انصاف}
مکمل فیصلے کا لنک اور چند خاص نکات
ٓاپ ملزم میاں محمد نواز شریف عوامی عہدے پر فائز تھے۔ ٓاپ اور ٓاپ ’’ کے اہل خانہ ؍ زیر کفالت افراد ایون فیلڈ مے فیئر جائیداد اپارٹمنٹ نمبر 16 ، واقع پارک لین لندن کے مالک و قابض ہیں اور یہ فلیٹس 17A ، 17، 16A 1993ء سے ٓاپ اور ٓاپ کے اہل خانہ کے قبضہ میں ہیں۔ مذکورہ جائیداد کی خریداری کے لئے سرمائے کا ذریعہ ٓاف شور کمپنیاں میسرز نیلسن انٹرپرائزز لمیٹڈ اور میسرز نیسکول لمیٹڈ اور ایون فیلڈ اپارٹمنٹ انہی کمپنیوں کی ملکیت کا جواز درست نہیں اور ان کمپنیوں کے حصص رکھنے والوں کو مذکورہ جائیداد کے ذریعے شفاف بنایا گیا۔
ٓاپ ملزم میاں محمد نواز شریف ، مریم نواز اور مفرور ملزمان حسین نواز اور حسن نواز مذکورہ جائیداد کی خریداری کے ذرائع بتانے میں ناکام رہے۔
ٓاپ ملزمہ مریم نواز ایون فیلڈ جائیداد کی ملکیت رکھنے ان کمپنیوں کی بینفشل اونر ہیں۔ کیلبری فونٹ میں جعلی معاہدہ از مورخہ 2 فروری 2016ء پیش کیاگیا حاالنکہ ُاس سال میں ایسا فونٹ اس طرح کے معاہدوں کے لئے دستیاب نہیں تھا۔ اس معاہدے پر ٓاپ ملزمہ مریم نواز اور شریک ملزم کیپٹن
)ر( محمد صفدر نے بطور گواہ دستخط کئے۔ یہ معاہدہ پیش کر کے ٓاپ نے تحقیقاتی ایجنسی کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔
ٓاپ ملزمہ مریم نواز شریف نے جان بوجھ کر مذکورہ اثاثوں کی ملکیت کے بارے میں اصل حقائق اور کمپنیوں کو چھپایا۔ اور ٓاپ سمیت تمام دیگر ملزمان بشمول اشتہاری قرار دئیے گئے ملزمان دستیاب فنڈز کے ذرائع اور ان کی بیرون ملک قانونی منتقلی بتانے میں ناکام رہے۔ جس وقت یہ جائیداد خریدی گئی اس وقت مفرور قرار پانے والے ملزمان کے ذرائع ٓامدن موجود نہ تھے۔
اس طرح ٓاپ ملزمان میاں محمد نواز شریف ، مریم نواز شریف اور کیپٹن اور نیب ٓارڈیننس 1999ء کی ((a)(iv)(v)&(xii)ر( محمد صفدر دفعات 9 دفعہ 10 کے تحت قابل سزا جرم کے مرتکب ہوئے ہیں۔
(a)نیب ٓارڈیننس 1999ء کے ساتھ منسلک شیڈول کی سیریل نمبر -12 3 کے تحت جرم سے متعلق حکم نامہ جاری کیا گیا ، یہ عدالت فیصلے کے اعالن میں اس جرم کو سنجیدگی سے لے گی۔
ملزمان نے الزامات ماننے سے انکار کیا۔
۔۔۔۔
طلبی کا نوٹس دینے کے لئے ان کی ماڈل ٹائون کی رہائش پر گیا تو وہاں پر تعینات ایک سیکورٹی گارڈ عبدالطیف نے بتایا کہ وہ تو اپنے خاندان کے ہمراہ 17/7/20کو بیرون ملک چلے گئے ہیں، اس نے نوٹس لینے سے انکار کردیا تو میں واپس چال ٓایا،اسی روز ہی موسیٰ غنی کی رہائش گلبرگ لاہور گیا تو پویس گارڈ کے انچارج عامر سے ملاقات ہوئی ،جس نے بتایا کہ یہاں پر اس نام کا کوئی شخص نہیں رہتا ہے بلکہ یہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی رہائش ہے جوکہ اسلاماباد میں رہتے ہیں،
۔۔۔۔۔
سید مبشر توقیر شاہ نے ایک سی ڈی اور بارہ صفحات ٹرانسکرائب مواد کے پیش کئے جو ریکارڈ کا حصہ بنائے گے۔گواہ/14رابرٹ ولیم ریڈلے جو فرانزک اینڈ ہینڈ رائٹنگ ایکسپرٹ ہیں اور 1976سے اس فیلڈ میں کام کررہے ہیں۔جن کی خدمات کوئسٹ سولیسیٹر نے حاصل کیں تھیں۔انہوں نےدونوں ٹرسٹ ڈیکلریشن،جرمی فری مین کے دستخط سمیت دیگر دستاویزات جو کوئسٹ سولیسیٹر نے فراہم کیں تھیں کاجائزہ لے کر رپورٹ تیار کی تھی۔اس کے مطابق دونوں ڈیکلریشن کے دوسرے اور تیسرے صفحات کسی اور دستاویزات کی کاپی ہیں۔جن کو ری پروڈوس کیا گیا ہے۔اسی طرح دونوں ڈیکلریشن کے صفحات نمبر دو اور تین میں سے یہ بتانا مشکل ہے کہ اصل کونسے ہیں۔اسی طرح دستخطوں کے ساتھ تاریخ بظاہر2006لگ رہی ہے۔جس کو اوور رائیٹ کرکے2004کرنے کی کوشش نظر ٓاتی ہے۔6جوالئی 2017کو دو رپورٹیں لیبارٹری کےسیل بند لفافے میں موصول کیں۔جس کی سولیسیٹر نے تصدیق کی۔کہ یہ اصل کی کاپی ہیں۔مچل لنڈسلے نوٹوی پبلک نے بھی تصدیق کی۔یہ دونوں دستاویزات نیسکول اور نیلسن اور کومبر ڈیکلیرشن کی کاپیاں تھیں۔جو ریکارڈ کا حصہ ہیں۔رابرٹ ولیم ریڈلے جو فرانزک اینڈ ہینڈ رائٹنگ ایکسپرٹ نے پہلے دیکھی گئی ڈیکلریشن کی کاپیوں اور بعد میں لیارٹری سے موصول شدہ کاپیوں کے جائزہ کے بعد سامنے ٓایا کہ گومبر اور نیس کول و نیلسن ڈیکلریشن کی کاپیوں ے دستخط والے صفحات مختلف پائے گے۔دستاویزات میں استعمال ہونے واال فائونٹ کیلبری جو ابتداء میں ونڈو وسٹا پروگرام میں تھا۔جو31جنوری2017تک کمرشل بنیادوں پر دستیاب نہیں تھا۔رابرٹ ولیم ریڈلے جو فرانزک اینڈ ہینڈ رائٹنگ ایکسپرٹ نے رائے دی کہ لگتا ہے کہ دستاویزات 31جوالئی2017کے بعد تیار کی گئیں ہیں۔ان کا بیان15دسمبر2017کو ریکارڈ کیا گیا۔
سیکشن 89 )5(کے تحت یہ دستاویزات پراپرچینل کے تحت پیش نہیں کی جارہیں اور جے ٓائی ٹی پاکستان کی کسی کورٹ کو ایڈریس نہینکرتا۔ دستاویزات پر تاریخ نہیں ہے اور نیب قانون کے سیکشن 21کے تحت حاصل نہیں کیاگیا۔ صفحہ نمبر 315،314،313پر موجود سرٹیفکیٹ کی کاپی کے ساتھ اسکرین شاٹس منسلک ہیں جوکہ پراسیکیوشن وٹنس 16کو کہاگیا کہ وہ اس کی بہتر کاپی فراہم کرے ۔جے ٓائی ٹی نے سپریم کورٹ سے حاصل کردہ دستاویزات کاجائزہ لیا اور اس میں اپنے بیان میں بینک گارنٹیز کا ذکر کیا اور دستاویزات میں 14اپریل 1980ء کا معاہدہ منسلک کیاگیاہے۔ سپریم کورٹ سے جو دستاویزات لئے گئے ہیں اس میں ایک جامع بیان بھی تھا جس میں کہاگیاہے کہ معاہدے کے نتیجے میں طارق شفیع کو 12ملین اے ای ڈی دیئے گئے اوراس کے بعد قطری شہزادے فہد بن جاسم الثانی کو نقد دیئے گئے۔ بیان کے مطابق یہ جو سرمایہ کاری تھی اس کے ذریعے نہ صرف ایون فیلڈ اپارٹمنٹس خریدے گئے بلکہ العزیزیہ کے نام سے سعودی عرب میں اسٹیل فیکٹری بھی لگائی گئی اور 8ملین ڈالر التوفیق انویسٹ منٹ فنڈ کا 8ملین قرضہ ادا کیا گیا جو قطری شہزادے نے اس سرمایہ کاری سے حسن نواز کو پیسے دیئے اسی سرمایہ کاری سے حسن نواز کو پیسے دیئے اسی سرمایہ کاری سے حسن نواز نے یو کے میں کمپنیاں بنائیں ۔ یہ جو معاہدہ تھا یہ دستاویزی ثبوت تھا کہ ہالی اسٹیل سے حاصل کردہ پیسے میں یعنی جو ہالی اسٹیل فروخت کی اس سے حاصل کردہ رقم تھی اور اس معاہدے پر دبئی کے نوٹری پبلک کے اسٹیمپ موجود ہیں۔ متحدہ عرب امارات سے ایم ایل اے کے نتیجے میں حاصل کردہ ریسپانس میں کہاگیا کہ دبئی کورٹ کے ریکارڈ میں معاہدے کو تالش کیاگیا اس کے بعد انہوں نے تصدیق کی کہ معاہدہ تاریخ 1980-4-14نہیں مال اور ہالی اسٹیل مل کے %25شیئرز بیچنے سے حاصل کردہ بارہ ملین درہم کے حوالے سے کوئی ٹرانزیکشن نہیں ہوئی ور اس طرح کا کوئی ریکارڈ نہیں مال کہ نوٹری پبلک نے اس طرح کے معاہدے کی تصدیق کی ہو اور گواہ نے کہاکہ یہ معاہدہ جھوٹا ہے۔ سپریم کورٹ سے حاصل کردہ دستاویزات میں ایک دستاویز ہالی اسٹیل مل کے اسکریپ مشینری دبئی سے سعودی عرب بھیجی گئی اس سے متعلق ہے۔ ایم ایل اے کے نتیجے میں حاصل کردہ ریسپانس کہتا ہے کہ ان کے ریکارڈ کے مطابق اس طرح کا اسکریپ نہیں بھیجا گیا اورپی ایم اے 432اور 7531 مینموجود جامع بیان کہتا ہے کہ ہالی اسٹیل سے بارہ ملین درہم لئے گئے جو کہ طارق شفیع نے قطری شہزادے کو دیئے ۔ جے ٓائی ٹی نے کہا کہ اس سے متعلق دستاویزی ثبوت نہیں دیئے گئے۔ 1978ء کے معاہدے کے تحت گلف اسٹیل مل کے واجبات میں سے 21ملین اسٹیل مل کے 75فیصد شیئرز کی فروخت سے پیسے دیئے گئے اور تقریباً 14ملین کے واجبات طارق شفیع کی ذمہ داری تھی جو کہ میاں شریف کی جانب سے کام کررہا تھا۔ سپریم کورٹ نے ذمہ داریوں سے متعلق استفسار کیا۔ طارق شفیع، ملزمان میاں محمدنوازشریف، حسین نوازشریف، حسن نوازشریف اورمریم صفدر کی طرف سے کوئی دستاویزات پیش نہیں کئے گئے کہ یہ ذمہ داریاں کیسے ادا ہوئیں۔ متحدہ عرب امارات کے حکام نے تصدیق کی کہ طارق شفیع کو بی سی سی ٓائی کے قرض نادہندگی کے الزام میں سزا ہوئی طارق شفیع نے یہ قرضہ اسی بینک یعنی بی سی سی ٓائی سے حاصل کیا جس سے اس نے 1978ء میں اہلی اسٹیل ملز کے 75فیصد شیئرز کی فروخت سے 6ملین اے ای ڈی حاصل کئے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے اٹھائے گئے سواالت کے جے ٓائی ٹی نے جواب دیئے۔ میرے اور جے ٓائی ٹی کے تمام اراکین کے دستخطوں کو جو والیم 3 کے صفحہ 40 پر ہیں میں پہچانتا ہوں اس نے جے ٓائی ٹی کی تفتیشی رپورٹ کا اصل والیم 3 پیش کیا۔ نواز شریف ،مریم نواز اور حسین نواز نے 5نومبر 2016 کو قطری شہزادے حماد بن جاسم التھانی کا خط جمع کرایااور اسکے بعد ایک اور خط بھی 22 دسمبر کوجمع کرایا،حسن اور حسین نواز نے جے ٓائی ٹی رپورٹ کا والیم نمبر فائیو )5( میں مذکورہ دونوں خطوط کے حوالے سے تضاد پایاجاتاہےاور اعتراض کیا گیا ہے کہ یہ خطوط جے ٓائی ٹی کا حصہ نہیں تھےلہذا یہ ثبوت کے طورپر قابل قبول نہیں ہوسکتےیہ اعتراض استغاثہ کا تھا،طارق شفیع نے قطری شہزادے کو 12 ملین اے ای ڈی ایس نقد دئیے اور رسید نہیں لی اس پر بھی عدالت نے اعتراض کیا اسے بھی ثبوت کے طورپر قبول نہیں کیا جاسکتا،عدالت نے قراردیاہےکہ اس حوالے سے ملزمان دستاویزاتی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے ۔قطری شہزادے سے 2006 میں ڈیل ہوئی حسین نواز اور قطری شہزادے کے درمیان ، جس کے تحت اس قطری شہزادے نے کمپنی نیسکول اور نیلسن جو کہ ایون فیلڈ اپارٹمنس کے مالک ہیں کے شیئرز حسین نواز کو دئیے یہ کاٖغذات ثبوت کے طورپر قابل قبول نہیں کیے جاسکتے کیونکہ1980 میں جو معاہدہ شریف فیملی اور قطری شہزادے کے ساتھ ہوا تھااس کی کوئی تفصیالت یا دستاویزاتی ثبوت نہیں اور اس کے بعد 2006 میں جو معاہدہ ہوا ان کے درمیان اس کا بھی کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا جاسکا،ساالنہ منافع جوآیا اور اس کو میاں شریف کی ہدایت پر تقسیم ہوتا رہا اور اس میں حسین نواز کو 4 مرتبہ ادائیگیاں وصول ہوئیں جس سے یہ سرمایہ کاری برطانیہ میں فلیگ شپ انوسٹمنٹ سمیت دیگر کمپنیاں قائم کی گئینتاہم کورٹ نے قرارد یا ہےکہ مذکورہ 4 ادائیگیاں ہوئیں ان کی کوئی رسید یا ثبوت کورٹ میں پیش نہیں کیا گیااسی طرح مزید 3 ادائیگیاں حسین نواز نے بھی وصول کینجس کے زریعے حسین نواز نے العزیزیہ اسٹیل مل سعودی عرب میں قائم کی لیکن اس حوالے سے بھی کوئی ثبوت نہیں دئیے گئے کہ فنڈز کیسے منتقل ہوئے ایک اور ادئیگی 2000 میں ال توفیق کمپنی مینسرمایہ کاری کی مد میں 8 ملین ڈالرز بھی میاں شریف کی ہدایت پر ال توفیق کمپنی کو سرمائے کی بنیاد پر دی ،لمبی مدت کےلیے لیا گیا قرضہ 8 ملین ڈالرزجو 5جنوری 2000 کو لیا گیا تھا جسے رپورٹ میں ختم ظاہر کیا گیالیکن یہ بات ثابت نہیں کرسکے کہ قرضے کی رقم کس نے ادا کی لہذا یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ قرضہ کو ختم کرنے کے حوالے سے کوئی ثبوت جے ٓائی ٹی کو بھی نہیں دئیے گئےکہ اس قطری شہزادے سے تعلق ثابت نہیں ہوسکاجے ٓائی ٹی کے مطابق جو شاہی خاندان کا مذکورہ اپارٹمنٹ سے کوئی تعلق نہیں وہ اس کے مالک نہیں،جے ٓائی ٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ ال توفیق کمپنی
- اجو معاہدہ ہوا تھا اس معاہدے کے وقت اپارٹمنٹ کے مالک شریف فیملی کے ممبر ان ہی تھے اور ان میں نواز شریف بھی شامل تھے اور اس نے
۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔
Comments
Post a Comment
شکریہ